کاتب وحی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آنحضرتۖ پر جو وَحی نازل ہوئی تھی اسے حضورۖ کے ارشاد کے مطابق لکھنے والا صحابی، حضرت عثمان کا لقب۔ "یہ خود کاتب وحی اور سرورِ کائنات کے اہم ترین فراحین لکھنے والے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٦٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت 'کاتب' کو کسرہ اضافت کے ذریعے عربی ہی سے مشتق اسم 'وحی' کے ساتھ ملانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے تحریراً سب سے پہلے ١٩١١ء کو "سیرۃ النبیۖ " میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آنحضرتۖ پر جو وَحی نازل ہوئی تھی اسے حضورۖ کے ارشاد کے مطابق لکھنے والا صحابی، حضرت عثمان کا لقب۔ "یہ خود کاتب وحی اور سرورِ کائنات کے اہم ترین فراحین لکھنے والے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٦٤ )

جنس: مذکر